فرانس کے دارالحکومت پیرس میں فٹ بال کلب ٹیم پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) کی چیمپئنز لیگ ٹورنامنٹ کا فائنل جیتنے کے بعد فتح کا جشن منانے کے دوران پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے، جس کے نتیجے میں پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق ہفتے کو چیمپئنز لیگ فائنل کے موقع پر ملک بھر میں 22 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے جن میں سے 8 ہزار اہلکار صرف پیرس میں موجود تھے۔ گزشتہ برس بھی پی ایس جی کی کامیابی کے بعد ہونے والے ہنگاموں کے پیشِ نظر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔
فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 416 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے 283 گرفتاریاں پیرس میں ہوئیں۔ حکام نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ ان میں سے کتنے افراد کو مزید تفتیش کے لیے باقاعدہ حراست میں رکھا گیا ہے۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ جھڑپوں کے دوران سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور انہوں نے ایسے واقعے کو قطعی طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر کے مطابق پی ایس جی کے حامیوں کے ایک گروپ نے پیرس کی رنگ روڈ پر بھی دھاوا بول دیا، جس سے ٹریفک کچھ وقت کے لیے معطل ہوگئی جبکہ وہاں آتش گیر شعلے (فلیئرز) بھی جلائے گئے۔
ادھر ہنگری کے دارالحکومت بوداپیسٹ میں پنالٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے حاصل کی گئی ڈرامائی فتح کا جشن منانے کے لیے تقریباً 20 ہزار افراد پیرس کی مشہور شانزے لیزے ایونیو پر جمع ہوئے۔
ممکنہ بدامنی کے خدشے کے پیش نظر میچ سے قبل متعدد دکانداروں نے اپنی دکانوں کی کھڑکیوں کو حفاظتی تختوں سے ڈھانپ دیا تھا۔ گزشتہ برس نوجوانوں نے شانزے لیزے اور دیگر سڑکوں پر واقع دکانوں کو نقصان پہنچایا تھا اور اس دوران سیکڑوں افراد گرفتار کیے گئے تھے۔
پولیس نے ہفتے کے روز 24 فلیئرز اور تقریباً 100 آتش بازی کے سامان بھی ضبط کیے جبکہ شانزے لیزے کے قریب ایک بس اسٹاپ شیڈ کو نقصان پہنچایا گیا۔
پولیس کے مطابق پی ایس جی کے ہوم گراؤنڈ پارک دی پرانسز اسٹیڈیم کے قریب ایک بیکری اور ایک ریستوران کو نقصان پہنچا۔ اسٹیڈیم کے اندر ہزاروں شائقین میچ دیکھ رہے تھے جبکہ تقریباً 4 ہزار سے 5 ہزار افراد باہر موجود تھے، جن میں سے بعض نے پولیس اہلکاروں پر مختلف اشیا پھینکیں۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ تقریباً 150 افراد نے اسٹیڈیم کے ایک دروازے سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔
کچھ افراد نے کرائے کی سائیکلوں کو استعمال کرتے ہوئے رکاوٹ (بیریکیڈ) قائم کرنے کی بھی کوشش کی جسے پولیس نے ہٹا دیا۔
اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق اسٹیڈیم کے قریب پولیس اور حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور جب پولیس پر آتش بازی کا سامان پھینکا گیا تو اہلکاروں نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔