فیفا ورلڈ کپ 2026: 48 ٹیموں والا نیا فارمیٹ کیا ہے اور کیسے کام کرے گا؟ آسان الفاظ میں سمجھیں – Sports



0311061273fb15c فیفا ورلڈ کپ 2026: 48 ٹیموں والا نیا فارمیٹ کیا ہے اور کیسے کام کرے گا؟ آسان الفاظ میں سمجھیں - Sports

فٹبال کی 96 سالہ تاریخ کا سب سے بڑا فیفا ورلڈ کپ 11 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے جو ماضی کے تمام ٹورنامنٹس سے بالکل مختلف ہوگا۔ اس بار ٹورنامنٹ میں 32 کے بجائے 48 ٹیمیں ایک دوسرے کے سامنے ہوں گی۔ جب 1930 میں پہلا ورلڈ کپ ہوا تھا تو اس میں صرف 13 ٹیمیں شامل تھیں، لیکن اب یہ مقابلہ چار گنا بڑا ہو چکا ہے۔ اس نئے نظام کے جہاں کھیل کو بہت سے فائدے مل رہے ہیں، وہاں کچھ ماہرین اس پر سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔

اس نئے فارمیٹ کے تحت تمام 48 ٹیموں کو چار، چار کے حساب سے 12 گروپس میں بانٹا گیا ہے۔ ہر گروپ سے دو بہترین ٹیمیں اگلے راؤنڈ میں پہنچیں گی، جبکہ تمام گروپس میں تیسرے نمبر پر آنے والی آٹھ بہترین ٹیموں کو بھی آگے جانے کا موقع ملے گا۔

اس طرح پہلی بار راؤنڈ آف 32 کا مرحلہ ہوگا جس کے بعد روایتی انداز میں ناک آؤٹ میچز، کوارٹر فائنل، سیمی فائنل اور فائنل کھیلا جائے گا۔

فیفا کے گلوبل فٹبال ڈویلپمنٹ کے سربراہ اور آرسنل کے سابق مینیجر آرسین وینگر کا ماننا ہے کہ ٹیموں کی تعداد بڑھانا فٹبال کی ترقی کے لیے ایک قدرتی عمل ہے۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ”یہ ایک قدرتی ارتقا ہے، میرا خیال ہے کہ ہم فٹبال کو پوری دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ 1930 سے اب تک کا سفر دیکھیں تو 2030 میں ورلڈ کپ کو 100 سال پورے ہو جائیں گے۔ ہم نے 13 ٹیموں سے شروع کیا، پھر 16 ہوئیں، 1982 میں پہلی بار 24 اور 1998 میں 32 ٹیمیں شامل کی گئیں۔ اب میرا ماننا ہے کہ 48 ٹیمیں بالکل درست تعداد ہے۔“

اس نئے نظام کا ایک بڑا فائدہ فیفا اور فٹبال کی معیشت کو ہوگا۔

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق اس بڑے ٹورنامنٹ سے 80.1 ارب ڈالرز کی معاشی سرگرمیاں پیدا ہوں گی، جس میں سے ساڑھے 30 ارب ڈالرز صرف میزبانی کرنے والے ملک امریکا کو ملیں گے۔

فیفا کے صدر جانی انفینٹینو کا کہنا ہے کہ اس سال ٹورنامنٹ سے 11 ارب ڈالرز کی آمدنی متوقع ہے جو دوبارہ فٹبال کی بہتری پر لگائی جائے گی۔

انہوں نے ایک فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیسہ دنیا بھر کے 211 ممالک میں جائے گا تاکہ لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے فٹبال کے منصوبے، اکیڈمیاں، اسٹیڈیم، گراؤنڈز اور مقابلے منعقد کیے جا سکیں۔ ان ممالک میں سے تین چوتھائی شاید ورلڈ کپ سے ملنے والی اس امداد کے بغیر اپنے ہاں کھیلوں کا انعقاد بھی نہ کر سکیں۔

اس فارمیٹ کی وجہ سے چھوٹے ممالک کے لیے بھی تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کھیلنے کا راستہ کھلا ہے۔

اس سال کیوراساؤ، کیپ وررے، اردن اور ازبکستان جیسی ٹیمیں پہلی بار ورلڈ کپ میں ڈیبیو کر رہی ہیں۔

کیوراساؤ تو ورلڈ کپ کی تاریخ کا کوالیفائی کرنے والا سب سے چھوٹا ملک بن گیا ہے۔

اس سے پہلے جب خواتین کے ورلڈ کپ میں ٹیمیں بڑھائی گئی تھیں تو بہت سے لوگوں نے اعتراض کیا تھا، لیکن وہاں جمائکا اور مراکش جیسی کمزور ٹیموں نے سیمی فائنل تک پہنچنے والی بڑی ٹیموں کو ہرا کر سب کو حیران کر دیا تھا۔

دوسری جانب، اس فارمیٹ کے کچھ نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

اب گروپ اسٹیج میں کچھ میچز بہت یکطرفہ ہو سکتے ہیں، جیسے جرمنی اور کیوراساؤ یا اسپین اور کیپ وردے کا میچ، جس میں بڑے ممالک کی جیت پہلے سے واضح دکھائی دیتی ہے۔ اس سے میچوں کا سسپنس کم ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ خطرہ بھی ہے کہ کوئی ٹیم اپنے تینوں میچ ڈرا کر کے بھی اگلے راؤنڈ میں پہنچ جائے، جس سے کھیل کا معیار متاثر ہوگا۔

ایک اور بڑا مسئلہ کھلاڑیوں کی صحت اور تھکن کا ہے۔ اب فائنل تک پہنچنے والی ٹیم کو 38 دنوں میں 8 میچز کھیلنے ہوں گے۔ اس دوران طویل سفر، مختلف ٹائم زونز اور الگ الگ شہروں کے موسم کا سامنا کرنا پڑے گا۔

فٹبال بینچ مارک گروپ کی رپورٹ کے مطابق، ورلڈ کپ کے فائنل اور انگلش پریمیئر لیگ کے نئے سیزن کے شروع ہونے میں صرف 34 دن کا فاصلہ ہوگا، جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو آرام اور نئے سیزن کی تیاری کے لیے بہت ہی کم وقت مل پائے گا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *