لبنان حزب اللہ کے اثر سے نکلنا چاہتا ہے، اسرائیلی سفیر کا دعویٰ – World



142336013e12284 لبنان حزب اللہ کے اثر سے نکلنا چاہتا ہے، اسرائیلی سفیر کا دعویٰ - World

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے تناظر میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان صورت حال بدستور نازک ہے، جہاں ایک جانب فضائی حملے جاری ہیں تو دوسری جانب امریکا کی ثالثی میں سفارتی رابطے بھی ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی سفیر نے دعویٰ کیا ہے ہے کہ لبنان حزب اللہ کے اثر سے نکلنا چاہتا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے امریکا میں سفیر یشیئل لیٹر نے کہا ہے کہ لبنانی حکومت نے امریکا کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کے دوران یہ واضح کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے اثر و رسوخ سے نکلنا چاہتی ہے۔

اسرائیلی سفیر کا دعویٰ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی حدود کے تعین سے متعلق طویل المدتی وژن پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔

دوسری جانب امریکا کی نگرانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کو ابتدائی یا تیاری کے مرحلے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق یہ مذاکرات ایک طویل اور پیچیدہ عمل کا آغاز ہیں، جن میں سفیروں کی سطح پر بات چیت ہو رہی ہے۔

واشنگٹن میں ہونے والے ان رابطوں کو ایران سے متعلق وسیع تر مذاکراتی عمل سے الگ رکھنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مقصد یہ ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے معاملات کو براہ راست دوطرفہ تناظر میں حل کیا جائے، جب کہ لبنان بھی نہیں چاہتا کہ اس کے جنوبی علاقوں کی صورت حال کو ایران کے ساتھ مذاکرات میں بطور دباؤ استعمال کیا جائے۔

یہ دونوں ملکوں کے سینیئر حکام کے درمیان 40 برسوں میں ہونے والا پہلا باضابطہ رابطہ ہے۔ مذاکرات کے اہم نکات میں جنگ بندی کو یقینی بنانا، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور ایک وسیع تر امن معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینا شامل ہیں۔

لبنان کا کہنا ہے کہ وسیع مذاکرات سے پہلے لبنان مکمل فائر بندی چاہتا ہے۔ جب کہ اسرائیلی فوج کا لبنان سے انخلا بھی لبنان کے مطالبات میں شامل ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *