لبنان نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کی کوششیں شروع کردیں – World



2219114655f3eb5 لبنان نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کی کوششیں شروع کردیں - World

لبنان نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی میں ایک ماہ توسیع کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ اس حوالے سے لبنانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ کل واشنگٹن میں اسرائیل سے مذاکرات میں جنگ بندی میں اضافے کا کہا جائے گا۔

اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق لبنان نے اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ بندی میں ایک ماہ کی توسیع کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے واشنگٹن میں اہم مذاکرات کل متوقع ہیں۔

ایک لبنانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ لبنان واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے دوران جنگ بندی میں ایک ماہ کی توسیع کی باضابطہ درخواست کرے گا۔

عہدیدار کے مطابق لبنان نہ صرف جنگ بندی کی مدت بڑھانے کا مطالبہ کرے گا بلکہ ان علاقوں میں اسرائیلی بمباری اور تباہی روکنے پر بھی زور دے گا جہاں اسرائیلی افواج موجود ہیں۔ اس کے علاوہ جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی یقین دہانی بھی مانگی جائے گی۔

دوسری جانب لبنانی صدر جوزف عون نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے رابطے جاری ہیں۔ گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی جنگ بندی اتوار کو ختم ہونے والی ہے۔

امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات میں وزیر خارجہ مارکو روبیو کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ خطے میں کشیدگی کے پیش نظر یہ مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں، جہاں فریقین جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے امکانات پر غور کریں گے۔

یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان موجودہ جنگ بندی 16 اپریل کو شروع ہوئی تھی جس کی مدت اتوار کو ختم ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل 1948 سے باضابطہ طور پر حالت جنگ میں ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کی جانب سے راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان کے مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا۔

اس تنازع میں اب تک لبنان میں 2400 سے زائد افراد ہلاک جب کہ تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے کچھ علاقوں میں موجود ہیں اور وہاں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیلی فوجیوں کو خطرہ لاحق ہوا تو لبنان میں مکمل طاقت استعمال کی جائے گی جب کہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ ممکنہ یا جاری حملوں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *