مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے کی کوششیں ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہیں کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر اپنے وحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکا دونوں کو سخت ترین نتائج کی وارننگ دے دی ہے.
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی تازہ کارروائیوں میں اب تک 17 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ صیہونی فورسز نے نبطیہ، شقین، کفر طیبنیت اور تبنین کے علاقوں کو توپ خانے اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے.
نبطیہ خردالی روڈ پر ایک گاڑی پر ہونے والے ڈرون حملے میں دانتوں کے ایک ڈاکٹر اپنے دو بچوں سمیت جاں بحق ہو گئے، جبکہ صیدا میں ایک رہائشی عمارت پر حملے کے نتیجے میں چھ افراد کی جان چلی گئی.
اس کے علاوہ جیبچٹ قصبے میں دو شامی باشندے مارے گئے اور طائر کے ایک اسپتال پر ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد چار ہو گئی ہے جبکہ پچاس سے زائد افراد زخمی ہیں.
ان حملوں کے دوران دیر الزہرانی میں دو لبنانی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں.
لبنان کی اس سنگین صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سخت لہجہ اختیار کیا ہے.
ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو اس کے بہت سنگین نتائج ہوں گے، اور ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے.
انہوں نے مزید خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں موجود امریکی افواج کو بھی ان نتائج کو بھگتنا پڑے گا، اور یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری یہ دھمکی کھوکھلی نہیں ہے.
اسی طرح ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا ہے، اور بحری ناکہ بندی سمیت لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں.
باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اب سب کچھ اپنے انجام تک پہنچ کر رہے گا.
دوسری طرف، ان تمام دھمکیوں اور عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے.
بنجمن نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اپنی حکمتِ عملی کے مطابق آپریشنز جاری رکھے گی، اور اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا.
ایک طرف جہاں یہ خونی جھڑپیں اور بیانات کا تبادلہ جاری ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے اسرائیل اور لبنان کے حکام ایک بار پھر واشنگٹن میں اکٹھے ہو رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ہوگا جس میں امن عمل کو دوبارہ بحال کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا.