رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایک ہفتہ طویل دورے (13 تا 20 مئی) کے دوران اگلے مالی سال کے لیے پاکستان کے بجٹ پر منظوری کی مہر لگا دی ہے۔ فنڈ نے اپنی پریس ریلیز میں کھل کر مانا ہے کہ اس کے مشن کا پورا زور حالیہ تبدیلیوں، معاشی اصلاحات اور بالخصوص مالی سال 2027ء کی بجٹ حکمت عملی پر تھا۔
دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے بحران جیسے بیرونی دھچکوں کو جنہوں نے دنیا بھر میں تیل، ایل این جی، کھاد، ہیلیم اور دیگر اہم معدنیات کا قحط پیدا کر رکھا ہے حیرت انگیز طور پر پاکستان کے لیے بے اثر اور معمولی قرار دے کر نظرانداز کر دیا گیا۔
اس لیے رواں جمعہ کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں دو وجوہات کی بنا پر چند ہی حیران کن چیزیں ہوں گی۔(الف) توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے، لچک اور پائیداری کی سہولت (آرایس ایف) کے دوسرے جائزے کی دستاویزات 15 مئی کو فنڈ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی تھیں یعنی بجٹ کا جائزہ لینے کے لیے مشن کی آمد کے دو دن بعد ان دستاویزات میں حکام کے ساتھ طے پانے والی وقت کے پابند شرائط اور ڈھانچہ جاتی اہداف کی تفصیلات موجود ہیں جو 15 ستمبر کو ہونے والے اگلے لازمی سہ ماہی جائزے تک نافذ رہیں گی۔ اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کی صورت میں ای ایف ایف کے تحت 760 ملین ایس ڈی آرز اور آر ایس ایف کے تحت 76.9 ملین ایس ڈی آرز کی قسط کی ادائیگی متوقع ہے۔ (ب) بجٹ بنانے والے عام طور پر بجٹ کے تقریباً 75 سے 80 فیصد حصوں کی ذمہ داری لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ یہ فیصلے اشرافیہ/بااثر طبقات اور ملک کے فنڈ پروگرام میں ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔
بجٹ کے کل اخراجات میں سالانہ اضافے کا پورا دارومدار مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی ترقی کے ان خوابوں پر ہے، جو ضرورت سے زیادہ خوش فہمی پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کووڈ-19 کے بعد سوائے مالی سال 2021-22 کے ملک کی شرحِ نمو کبھی حکومتی دعووں کے قریب بھی نہ پھٹک سکی۔
چونکہ پاکستان 2019ء سے آئی ایم ایف کی کڑی اور پیشگی شرائط کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، اس لیے فنڈ کے طے کردہ خسارے کے اہداف کو پورا کرنے کا سارا غصہ ہمیشہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) پر ہی نکالا جاتا ہے اور اس میں بے دردی سے کٹوتیاں کر دی جاتی ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کاٹے گئے لگ بھگ تمام ہی سیزنز کا یہی چلن رہا ہے، پاکستان اس وقت اپنے 24 ویں پروگرام کی سختیاں جھیل رہا ہے جہاں ترقیاتی بجٹ کا خون کرنا ایک روایت بن چکا ہے۔ نتیجہ بالکل سامنے ہے، بجٹ میں کاغذوں کی حد تک رقم تو مختص کر دی جاتی ہے لیکن اصل ترقیاتی فنڈز کا اجرا مسلسل سکڑ رہا ہے۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ جولائی تا اپریل 2026ء کے دوران یہ شرح گر کر محض 51 فیصد کی تشویشناک حد تک کم ترین سطح پر آ لگی ہے۔
ترقیاتی فنڈز کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی کی ”منظوری“ اور وزارتِ خزانہ کی طرف سے ”اصل ادائیگی“ کے درمیان یہ کھلا تضاد دو ہی چیزوں کا پتا دیتا ہے، اول یہ کہ وزارتِ منصوبہ بندی سکڑتی ہوئی مالی گنجائش کے باوجود کاغذی بجٹ بنا کر اصل فنڈز نہ ملنے کی ذمہ داری سے صاف بچ نکلنا چاہتی ہے (حالانکہ حقیقت پسندانہ بجٹ بنانا اسی کی ذمہ داری ہے)۔ دوم یہ وزارتِ خزانہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ایک چال بھی ہو سکتی ہے، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ خزانہ امورِ ترقی کے لیے پیسے روک کر پورا زور صرف روزمرہ کے کرنٹ اخراجات پر لگا رہا ہے۔
حکومتی پالیسی کا سارا محور بھی یہی رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کرنٹ اخراجات کا پیٹ بھرا جائے۔ اس پیٹ کا سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود (مارک اپ) کی ادائیگی ہے، جسے سال 2025-26 میں کل کرنٹ اخراجات کے آدھے سے بھی زیادہ حصے (50 فیصد پلس) پر بجٹ کیا گیا، یہ وہ مجبوری ہے جسے اگر نہ چکایا جائے تو پوری معیشت دھڑام سے نیچے آ گرے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شرح سال 2024-25 میں حاصل ہونے والے 54.5 فیصد سے کم ہے، حالانکہ تب اسے کل کرنٹ اخراجات کا 56.8 فیصد بجٹ کیا گیا تھا، جس سے مجموعی طور پر 813 ارب روپے کا ایک بڑا ہیر پھیر یا فرق سامنے آیا۔
رواں سال سود (مارک اپ) کے لیے کم رقم رکھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حکومت نے قرضے لینا کم کر دیے ہیں بلکہ چالاکی یہ ہے کہ اب قرض ملنے کی لاگت سستی پڑ رہی ہے۔ ہوا یوں کہ ماضی کے قرضوں کو ری شیڈول کرا لیا گیا، جس سے ادائیگی کی مدت تو لمبی ہو گئی لیکن فوری سود کا بوجھ وقتی طور پر ہلکا ہو گیا۔ ساتھ ہی گزشتہ سال دسمبر تک پالیسی ریٹ میں کمی کے خواب دیکھے جا رہے تھے، مگر مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا اور شرحِ سود کو مزید بڑھانا پڑ گیا، یہ حقیقت ان دعووں کا منہ چڑاتی ہے کہ اس عالمی تنازع کے اثرات پاکستان کے لیے ”محدود“ رہے۔
اسی چکر میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کمرشل بینکوں سے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے جو 1.25 ٹریلین (سوا دو سو ارب) روپے ادھار لیے گئے تھے انہیں آئی ایم ایف کی آشیرباد سے مارک اپ کے کھاتے میں ڈالا ہی نہیں گیا، بلکہ اسے ”یکدم ہونے والا خرچہ“ کہہ کر الگ کر دیا گیا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سال 25-2024 کا بجٹ کردہ مارک اپ سال کے اختتام پر سامنے آنے والے اصل خرچ سے 829 ارب روپے زیادہ نکلا تھا، جس کا کریڈٹ شرحِ سود میں عارضی کمی اور ری شیڈولنگ کو جاتا ہے۔ اب اگلے مالیاتی سال 27-2026 کی بجٹ دستاویزات ہی یہ بھانڈا پھوڑیں گی کہ اس مد میں اصل خرچہ بجٹ کے تخمینوں سے کتنا اوپر نکل گیا۔
دوسری طرف دفاعی اخراجات جو 25-2024 میں کل کرنٹ اخراجات کا 13.3 فیصد تھے وہ 26-2025 میں چھلانگ لگا کر 15.62 فیصد پر پہنچ گئے۔ اس بھاری اضافے کی وجہ ملک میں جاری دہشت گردی کی حالیہ لہر اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والے آپریشنل اخراجات ہیں، تاہم، یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ پچھلے سال کی سرکاری دستاویزات کے مطابق مجموعی کرنٹ اخراجات میں پھر بھی 813 ارب روپے کی کمی دکھائی گئی تھی۔
ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے تنخواہوں میں بڑے اضافے کی وجہ سے سویلین حکومت چلانے کے اخراجات گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں میں 5.4 فیصد کے مقابلے میں رواں سال کے بجٹ میں بڑھ کر کل کرنٹ اخراجات کا 5.9 فیصد ہو گئے۔ پنشن کی رقم گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں میں 1.014 ٹریلین روپے سے بڑھ کر اس سال 1.055 ٹریلین روپے ہو گئی، یہ رقم سرکاری شعبے کے پنشنرز کے لیے مخصوص ہے اور اس میں نجی شعبے سے وابستہ 93 فیصد افراد شامل نہیں ہیں۔ اگرچہ حکومت نے گزشتہ سال سے ملازمین کا کنٹری بیوشن (حصہ داری) لازمی قرار دیا ہے، لیکن اس بات پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے کہ آیا یہ رقم کسی ایسکرو اکاؤنٹ یا پنشن فنڈ میں رکھی جا رہی ہے یا فنڈز کی منتقلی کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت اسے اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کے مستقبل میں سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو فنڈ کے اصرار پر کرنٹ اخراجات کا 5 فیصد سے بھی کم حصہ ملا، حالانکہ سائنسی طریقہ کار کے ذریعے منتخب کیے گئے یہ مستحقین فنڈ کی شدید سکڑاؤ والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں بڑھنے والے بے روزگاروں کی عکاسی نہیں کرتے اور نہ ہی یہ کیلوری کے طریقہ کار کے ذریعے بڑھتی ہوئی غربت کی سطح کو مدنظر رکھتے ہیں۔
اول تو پورا زور بالواسطہ ٹیکسوں (خصوصاً سیلز ٹیکس) کے بے رحمانہ اضافے پر ہے اور منطق یہ دی جا رہی ہے کہ جی ایس ٹی کی کارکردگی کا گراف (یعنی ممکنہ ٹیکس کے مقابلے میں اصل وصولی) گزشتہ دس سالوں میں 27.4 فیصد سے گر کر 22.8 فیصد رہ گیا ہے۔ اب آئی ایم ایف نے ان بنیادی اشیاء پر بھی ٹیکس تھوپنے کا مشورہ دیا ہے جو اب تک معاف یا رعایتی لسٹ میں تھیں۔ برآمدی شعبوں کو ماضی میں ملنے والی ’زیرو ریٹنگ‘ نے پہلے ہی ٹیکس کا دائرہ تنگ کر رکھا تھا اور رہی سہی کسر اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں میں جی ایس ٹی کی تقسیم نے پوری کر دی، جس سے چار الگ نظام کھڑے ہو گئے اور انتظامی کھچڑی بن گئی۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے یہ وہ بالواسطہ ٹیکس ہیں جن کا سارا نزلہ امیروں کے بجائے غریبوں پر گرتا ہے۔
دوسرا حربہ سپر ٹیکس ہے، جس کے حق میں آئینی عدالت کا فیصلہ تو آ چکا ہے لیکن معاشی حلقوں میں یہ خوف سر اٹھا رہا ہے کہ اس سے ملک کے بچے کچھے سرمایہ دار بھی اپنا بوریا بستر گول کر کے باہر بھاگ جائیں گے۔
تیسرا نِشانہ صوبائی ٹیکس اور خاص طور پر زرعی انکم ٹیکس ہے، جسے اب تنخواہ دار طبقے کی طرح نچوڑنے کی تیاری ہے۔ ظاہر ہے اگر اس جاگیردارانہ نظام پر ہاتھ ڈالا گیا تو اس کے شدید سیاسی جھٹکے بھی لگیں گے جبکہ اس دلدل سے نکلنے کا ایک بالکل منفرد اور آؤٹ آف دی باکس حل یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت پنشن کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر بدلے (موجودہ ملازمین کی کٹوتی سے ہی موجودہ پنشنرز کو پیسے دیے جائیں)، اگلے تین سال کے لیے سرکاری تنخواہیں منجمد کر دی جائیں، فضول خرچیاں روک کر صرف انتہائی ناگزیر آپریشنل اخراجات بجٹ کا حصہ بنیں اور سود کی ادائیگی کے ہوائی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ اہداف طے کیے جائیں۔ سب سے بڑھ کر ایک ایسا منصفانہ، شفاف اور خامیوں سے پاک ٹیکس نظام لایا جائے جو چوروں کو پکڑنے اور ایماندار ٹیکس دہندگان پیدا کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
نوٹ: یہ تحریریکم جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔