مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف سے اہم ملاقات کی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس اعلیٰ سطح کی بیٹھک میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، علاقائی امن اور جنگ بندی کے مسودے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس اہم ملاقات میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی آرمی چیف کے ہمراہ شریک تھے۔
صدر پزشکیان سے ملاقات کے علاوہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی علیحدہ ملاقات کی، جس میں سفارتی عمل کو کامیاب بنانے اور دونوں ممالک کے تعاون پر زور دیا گیا۔
بعد ازاں انہوں نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی۔ اس دوران پارلیمانی اور سیاسی تعلقات کے فروغ کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کے علاقائی امور پر گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے تہران اور اسلام آباد کے درمیان رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعے کے روز تہران پہنچے تھے، جہاں انھوں نے ایرانی حکام کے ساتھ خطے کی صورتِ حال اور سیکیورٹی امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ انھوں نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ بھی رات گئے تک طویل ملاقات کی تھی۔
عرب میڈیا اور ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں تیار ہونے والے اس تاریخی معاہدے کا اعلان جلد متوقع ہے، اور کامیابی کی صورت میں اسے اسلام آباد ڈیکلریشن کا نام دیا جائے گا۔
اس نو نکاتی معاہدے کے ڈرافٹ میں جوہری پروگرام کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ اس کا پورا محور تمام محاذوں پر فوری اور غیر مشروط جنگ بندی ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی سویلین، فوجی یا معاشی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے۔
اس کے علاوہ جاری فوجی کارروائیاں اور میڈیا وار مکمل بند کرنے، ایک دوسرے کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرنے اور خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحرِ عمان میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کی آزادی کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
معاہدے کے بعد دونوں فریقین سات دن میں دوبارہ مذاکرات شروع کریں گے اور امریکا ایران پر عائد پابندیاں مرحلہ وار اٹھا لے گا۔