گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی آموں کی بہار آ جاتی ہے اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم نظر آنے لگتے ہیں۔ پاکستان میں آم کی بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر, چونسہ اور صوبہ سندھ کے کچھ علاقوں میں الفانسو آم محدود پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اسے عام طور پر ”الفنس“ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
اپنی مٹھاس، خوشبو اور منفرد ذائقے کی وجہ سے آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس موسم میں آم سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی لوگوں کی پسندیدہ چیزوں میں شامل ہے۔ ایسے میں یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ مینگو شیک بنانے کے لیے کون سا آم سب سے بہتر رہتا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق ”الفانسو آم“ مینگو شیک کے لیے بہترین انتخابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ بہت کم پایا جاتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ اچھی طرح گھل مل جاتی ہے۔ بعض اقسام کے آم بلینڈ کرنے کے بعد دھاگے دار یا ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو آم شیک کو ہموار اور ملائم بنا دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور خاص بات اس کی خوشبو ہے۔ اس کی منفرد مہک اور ذائقہ سادہ دودھ کے ساتھ بھی شیک کو خاص بنا دیتے ہیں۔ چونکہ یہ آم قدرتی طور پر کافی میٹھا ہوتا ہے، اس لیے بہت سے لوگ اس میں اضافی چینی شامل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کے مطابق ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ بعض اقسام اگرچہ کھانے میں بہت لذیذ ہوتی ہیں، لیکن بلینڈ ہونے کے بعد وہ مطلوبہ کریمی ساخت فراہم نہیں کرتیں۔ ایک اچھے مینگو شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر سمجھا جاتا ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا ہو، خوشبو نمایاں ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو اور گٹھلی نسبتاً چھوٹی جبکہ گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کئی دیگر اقسام بھی مینگو شیک کے لیے اچھی سمجھی جاتی ہیں۔ کیسر آم اپنے شوخ نارنجی رنگ کے گودے اور بھرپور مٹھاس کی وجہ سے گاڑھا اور خوش ذائقہ شیک تیار کرتا ہے۔ دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی بدولت ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔ اگرچہ ایسے آم زیادہ میٹھے محسوس ہوتے ہیں، لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو جاتی ہے جو شیک کے تازہ ذائقے کو متاثر کر سکتی ہے۔
گھر میں مزیدار مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان تدابیر بھی مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ آموں کو بلینڈ کرنے سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو زیادہ برف ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ کے استعمال سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔
آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک گاڑھا ہو جاتا ہے۔ ذائقے میں اضافہ کرنے کے لیے تھوڑی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈ کرنے سے شیک پتلا ہو سکتا ہے، اس لیے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر ہے۔
گرمیوں میں ایک بہترین مینگو شیک کا راز صرف اس کی ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی پوشیدہ ہے۔ چاہے کوئی گاڑھا اور کریمی شیک پسند کرے یا ہلکا لیکن مناسب قسم کے آم کا انتخاب ذائقے اور معیار میں نمایاں فرق پیدا کر سکتا ہے۔