وائٹ ہاؤس میں محفوظ بال روم کی تعمیر ہوتی تو فائرنگ کا واقعہ پیش نہیں آتا: ٹرمپ کا ردعمل – World



26193126dfacf3a وائٹ ہاؤس میں محفوظ بال روم کی تعمیر ہوتی تو فائرنگ کا واقعہ پیش نہیں آتا: ٹرمپ کا ردعمل - World

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں عشایئے کے دوران ہونے والی فائرنگ کے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہاں ایک بڑا محفوظ بال روم کی تعمیر ہوتی تو یہ واقعہ پیش نہیں آتا جب کہ بال روم کی تعمیر کے خلاف ایسا مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔

اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ رات جو واقعہ پیش آیا اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہماری عظیم فوج، سیکرٹ سروس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مختلف وجوہات کی بنا پر گزشتہ 150 برس کے دوران ہر صدر نے اس بات پر زور دیا کہ وائٹ ہاؤس کے اندر ایک بڑا، محفوظ اور سیکیور بال روم تعمیر کیا جائے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وائٹ ہاؤس میں اس وقت زیرتعمیر ملیٹری ٹاپ سیکرٹ بال روم موجود ہوتا تو یہ واقعہ کبھی پیش نہ آتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کی تعمیر جتنی جلدی ہو سکے مکمل ہونی چاہیے، اگرچہ یہ خوبصورت ہے لیکن اس میں اعلیٰ ترین سطح کی تمام سیکیورٹی خصوصیات موجود ہیں اور اس کے اوپر کوئی ایسے کمرے نہیں ہیں جہاں غیر محفوظ افراد جمع ہو سکیں، یہ دنیا کی سب سے محفوظ عمارت وائٹ ہاؤس کے دروازے کے اندر واقع ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ محفوظ بال روم کی تعمیر کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ مضحکہ خیز ہے، جو ایک خاتون نے اپنے کتے کو ٹلاتے ہوئے دائر کیا ہے، جن کو ایسا مقدمہ دائر کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے اور اس مقدمے کو فوری ختم کردینا چاہیے۔

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس کے اندر محفوظ بال روم کی تعمیر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تعمیر میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں ہونی چاہیے حالانکہ یہ منصوبہ بجٹ میں شامل ہے اور مقررہ وقت سے کافی آگے بڑھ چکا ہے۔

دوسری جانب وفاقی پراسیکیوٹرز نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والے فائرنگ کے اس واقعے میں گرفتار مشتبہ شخص کو پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

وفاقی پراسیکیوٹر جینین پیرو کے مطابق ملزم پر آتشیں اسلحہ کے ذریعے پرتشدد جرم کے دوران کارروائی کرنے اور ایک وفاقی اہلکار پر خطرناک ہتھیار سے حملہ کرنے کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ ہفتے کی شب واشنگٹن میں منعقدہ وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، جہاں ایک مسلح شخص نے بال روم کے باہر سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کیا، جسے امریکی سیکرٹ سروس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو میں لے لیا تھا۔

حملے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ عہدیدار اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی تاہم امریکی صدر اور دیگر عہدیدار محفوظ رہے اور سیکیورٹی اداروں نے انہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کردیا تھا جب کہ تقریب کو بھی منسوخ کر دیا گیا تھا۔

بعدازاں حملہ آور کی شناخت کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ تھامس ایلن کے نام سے ہوئی ہے اور وہ ٹورینس میں یونیورسٹی کے لیے ٹیوشن سروس فراہم کرتا ہے۔ حکام کے مطابق حملہ آور کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں جب کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہ اکیلا حملہ آور تھا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *