وزیر خزانہ اقتصادی سروے پیش کر رہے ہیں – Business & Economy



maxresdefault_live وزیر خزانہ اقتصادی سروے پیش کر رہے ہیں - Business & Economy

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 26-2025 کا اقتصادی سروے باقاعدہ طور پر پیش کر دیا ہے، جس کے مطابق ملکی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔

وزیر خزانہ نے جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سروے دراصل گزشتہ ایک سال کی معاشی کہانی بیان کرتا ہے۔

انہوں نے ماضی کی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال جولائی میں تجارتی صورتحال غیر یقینی تھی اور ٹیرف یعنی ٹیکسوں کے حوالے سے بھی ابہام پایا جاتا تھا، لیکن حکومت نے اس امتحان کا سامنا اچھی طرح سے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مارچ کے مہینے سے ہم نے علاقائی رابطے شروع کیے اور تمام تر بیرونی و اندرونی چیلنجز کے باوجود ملک نے معاشی ترقی کی بہتر شرح حاصل کی ہے، جو کہ گزشتہ چار سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔

معاشی نمو کے حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اس بار جی ڈی پی کی مجموعی شرح نمو 3.7 فیصد رہی ہے، جبکہ مالی سال 2025 میں معاشی ترقی کی یہ شرح 3.2 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

انہوں نے عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور کشیدگی کی وجہ سے ہماری معیشت بھی متاثر ہوئی ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستان کی معیشت کا کل حجم 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

مختلف شعبوں کی کارکردگی کی تفصیلات دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کی شرح 2.8 فیصد رہی ہے۔ صنعتی میدان میں بڑی صنعتوں یعنی ایل ایس ایم سیکٹر نے 6.1 فیصد کی رفتار سے ترقی کی ہے، جو کہ گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح ہے۔

انہوں نے خوش آئند بات بتاتے ہوئے کہا کہ 22 میں سے 16 صنعتی سیکٹرز نے شاندار ترقی دکھائی ہے، اس دوران سیمنٹ کی طلب میں دس فیصد جبکہ فرٹیلائزر، موبائل فون اور پیٹرولیم کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خدمات یعنی سروسز کے شعبے نے 4.9 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے اور یہ کارکردگی بھی پچھلے چار سالوں میں سب سے نمایاں ہے۔

مالیاتی خسارے اور تجارتی توازن پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ مالی خسارہ جی ڈی پی کا محض 0.7 فیصد رہا ہے، جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 10.1 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے ایک اور بڑی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جولائی سے مارچ کے دوران ملکی کرنٹ اکاؤنٹ بہتر رہا اور یہ 72 ملین ڈالر سرپلس یعنی منافع میں رہا ہے، جبکہ گزشتہ ماہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے 4.2 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئی ہیں۔

وزیر خزانہ نے برآمدات کے اتار چڑھاؤ پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ برآمدات میں کمی کی دو اہم وجوہات رہی ہیں، جن میں چاول کی برآمدات کا 1.1 ارب ڈالر تک کم ہونا اور فوڈ سیکٹر میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی کمی آنا شامل ہے۔ تاہم، دوسری جانب جولائی سے مئی کے دوران گارمنٹس کی برآمدات میں پانچ فیصد اور ہوم ٹیکسٹائل میں تین فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

انہوں نے ملکی ساکھ کے حوالے سے ایک منفرد بات بتاتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان کے تیار کردہ فٹ بال شامل ہیں۔

آئی ٹی سیکٹر کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان کی آئی ٹی برآمدات ساڑھے چار ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کا کل حجم 17.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ رواں مہینے یعنی تیس جون تک یہ ذخائر 18 ارب ڈالر کی سطح کو چھو لیں گے۔

اسٹاک مارکیٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کے ایس ای انڈیکس میں اتار چڑھاؤ آنا ایک قدرتی عمل ہے، تاہم اس وقت ایکوٹی مارکیٹ 5 لاکھ 63 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور مارکیٹ پر اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس دوران ایک لاکھ 75 ہزار نئے سرمایہ کاروں نے مارکیٹ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

قرضوں کی صورتحال اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی واپسی پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ملکی مجموعی قرضوں میں سے 40 سے 45 فیصد تک کا قرضہ رعایتی شرائط پر حاصل کیا گیا ہے، جبکہ ملک کی مجموعی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں قرضوں کا تناسب ساڑھے 68 فیصد رہا ہے۔

انہوں نے ایک بڑی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے چار سال کے طویل عرصے کے بعد دوبارہ یورو بانڈز کا اجرا کیا ہے، جبکہ چینی مارکیٹ میں بھی پانڈا بانڈز کامیابی سے جاری کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق ان بانڈز کا دوبارہ مارکیٹ میں آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد بحال ہو چکا ہے، جس کے اچھے اثرات عوام تک پہنچ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ملک میں فی کس سالانہ آمدنی بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔

ٹیکس وصولیوں اور صنعتی مانیٹرنگ کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ڈیجیٹل پروڈکشن مانیٹرنگ یعنی پیداوار کی جدید نگرانی کے نظام پر پورا سال سنجیدگی سے کام کیا گیا ہے۔ اس نئے ٹریکنگ سسٹم کی بدولت صرف سیمنٹ اور شوگر یعنی چینی کے شعبوں سے حکومت کو 60 ارب روپے کے اضافی ٹیکس محصولات حاصل ہوئے ہیں۔ اس نظام کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اب یہ ڈیجیٹل سسٹم تمباکو، بیوریج، ٹیکسٹائل اور دیگر اہم صنعتی شعبوں میں بھی متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ ٹیکس چوری کو روکا جا سکے۔

نجی شعبے اور تعلیم کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ نجی شعبے کے لیے بینکوں سے ملنے والے قرضوں کے حجم میں 22 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد نجی شعبے کے قرضوں کی کل مالیت 934 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی زرعی ترقی کے لیے دیے جانے والے زرعی قرضوں میں بھی پندرہ فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کسانوں کے لیے مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

سماجی شعبے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ملک میں شرح خواندگی یعنی پڑھے لکھے لوگوں کا تناسب 60 فیصد سے بڑھ کر اب 63 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *