جب رواں سال 28 فروری کو اسرائیلی اور امریکی جنگی طیاروں نے مل کر ایران پر بمباری کی، تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک دوسرے کے تاریخی فیصلوں کا جشن منایا تھا۔ نیتن یاہو نے اسرائیلی عوام کو یقین دلایا تھا کہ دونوں ممالک کا اتحاد پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ لیکن اس واقعے کے تین ماہ بعد، جو مہم ایک مشترکہ فوجی کارروائی کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب امریکا کی قیادت میں ایک سفارتی عمل میں بدلتی دکھائی دے رہی ہے جس میں نیتن یاہو خود کو بالکل الگ تھلگ پا رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے عوامی سطح پر تو صدر ٹرمپ پر تنقید کرنے سے گریز کیا ہے، لیکن اندرونی ذرائع کے مطابق انہوں نے بند کمروں میں اعتراف کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات پر اسرائیل کا اثر و رسوخ اب بہت محدود ہو چکا ہے۔
اپریل میں عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے نیتن یاہو مسلسل صدر ٹرمپ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ دوبارہ بھرپور فوجی آپریشن شروع کریں تاکہ ایرانی حکومت کو گرایا جا سکے۔ تاہم، وائٹ ہاؤس نے ان کی بات ماننے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کر لیا۔
اب اسرائیلی قیادت کو یہ فکر لاحق ہے کہ جو نیا معاہدہ سامنے آ رہا ہے، اس میں اسرائیل کے اصل تحفظات جیسے کہ ایران کا جوہری مواد، اس کا میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے مسلح نیٹ ورکس کو شامل نہیں کیا جا رہا، بلکہ الٹا تہران پر سے معاشی دباؤ کم کیا جا رہا ہے۔
اس صورتحال پر ایک اسرائیلی اہلکار نے ’سی این این‘ سے گفتگو میں کہا کہ ” اسرائیل کو تشویش ہے کہ ٹرمپ ایک ایسے عارضی معاہدے پر راضی ہو جائیں گے جو اسرائیل کے لئیے برا ہوگا“۔
اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ اگر اس معاہدے کے ذریعے ایران سے جوہری مواد کو واقعی نکال لیا جائے تو ٹھیک ہے، لیکن اگر یہ صرف باتوں کی حد تک ہوا تو ایرانی امریکیوں کو چکمہ دے سکتے ہیں اور آخر میں جوہری مواد بھی وہیں رہے گا۔
اسرائیل اس بات پر بضد تھا کہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے اور اس کی تیل کی تنصیبات پر حملے کیے جائیں تاکہ وہاں کی حکومت ملازمین اور فوج کو تنخواہیں نہ دے سکے اور اندرونی طور پر کمزور ہو جائے۔
لیکن معاہدے کی صورت میں امریکا یہ ناکہ بندی ختم کر سکتا ہے جس سے ایران کو دوبارہ فنڈز ملنے شروع ہو جائیں گے۔
اس صورتحال پر ایک اور اسرائیلی ذریعے نے انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں سمجھ آ رہی ہے کہ کیسا محسوس ہوتا ہے جب ٹرمپ ہمیں بیچ چوراہے پر اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ لبنان کا معاملہ بھی ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے جہاں ایران چاہتا ہے کہ اس معاہدے میں لبنان کی جنگ بندی بھی شامل ہو، جبکہ حزب اللہ نے حال ہی میں اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔
نیتن یاہو نے اپنی فوج کو لبنان میں کارروائیاں بڑھانے کا حکم تو دیا ہے، لیکن امریکی پابندیوں کی وجہ سے ان کی حکومت کے اندر موجود انتہا پسند اتحادیوں جیسے کہ اتمار بن غویر اور بیزلیل اسموٹریچ نے ان پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے سامنے ڈٹ جائیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں جب باراک اوباما نے سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تھا، تو نیتن یاہو نے امریکی کانگریس میں جا کر اس کی سخت مخالفت کی تھی۔
لیکن صدر ٹرمپ کے معاملے میں وہ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ انہوں نے اپنی تمام تر سیاست ٹرمپ کے ساتھ تعلقات پر لگائی ہوئی ہے اور ان سے پنگا لینا سیاسی طور پر خودکشی کے مترادف ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو خود براہِ راست ٹرمپ پر تنقید کرنے کے بجائے سارا ملبہ امریکی مذاکرات کاروں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پر ڈال رہے ہیں۔
نیتن یاہو کے حامی ٹی وی چینل 14 کے اینکر یعقوب بردوگو نے اس حوالے سے کہا کہ کشنر، وٹکوف اور جے ڈی وینس نے ہمارے وجود کی جنگ کے مقابلے میں تجارتی دنیا کو ترجیح دی ہے۔ وہ جو معاہدے کر رہے ہیں ان کا پورا احترام کرتے ہیں، لیکن یہاں ہم نے رہنا ہے، انہوں نے نہیں۔
دوسری طرف امریکی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل صورتحال کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے کیونکہ وہ ایران میں حکومت بدلنے کے خواب دیکھ رہا تھا جبکہ واشنگٹن میں حکومت بدل چکی تھی اور صدر ٹرمپ یہ تاثر دور کرنا چاہتے تھے کہ اسرائیل امریکا کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے۔
خود ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ بی بی ایک اچھا آدمی ہے، وہ وہی کرے گا جو میں اسے کہوں گا۔
ماہرین اور سابق اسرائیلی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ جنگ کو کب روکنا ہے اور وہ فوجی کامیابیوں کو کسی پائیدار سیاسی فائدے میں تبدیل نہیں کر پاتے۔ اس جنگ کے بعد بھی ایران کی حکومت قائم ہے اور اس کا جوہری پروگرام جوں کا توں ہے۔
حالیہ عوامی سروے کے مطابق آدھے سے زیادہ اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیل کو کامیابی نہیں ملی۔
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس نقصان کے بدلے نیتن یاہو کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لیے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات بحال کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن نیتن یاہو کی سخت پسند حکومت کی وجہ سے وہاں بھی کوئی بڑی پیش رفت ممکن نظر نہیں آتی۔
انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے سینئر محقق ڈینی سیٹرینووچ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ نیتن یاہو نے اپنی پوری سیاسی شناخت ’مسٹر ایران‘ کے طور پر بنائی تھی جو کہتے تھے کہ ایران کو صرف طاقت سے روکا جا سکتا ہے، لیکن اب وہ ایک ایسے معاہدے کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں جو نہ صرف ایرانی حکومت کو جائز قرار دیتا ہے بلکہ نیتن یاہو کے تین دہائیوں پرانے نظریے کی ناکامی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔