ایران کے اعلیٰ سرکاری حکام کی جانب سے خطے کے ممالک کے لیے ایک انتہائی اہم انتباہ جاری کیا گیا ہے، جس میں انہیں امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں خطے کے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جتنا وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے لیے دیا ہے، ٹھیک اتنا ہی وقت خطے کے ممالک کے پاس بھی موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جتنا جلدی ہو سکے خطے کے ممالک امریکا سے چھٹکارا حاصل کر لیں، اور اگر بعد میں کچھ ہوتا ہے تو ہم سے کوئی شکایت نہ کرنا۔
ابراہیم رضائی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی سیاسی اور معاشی بربادی کے لیے ایران نے جو منصوبہ تیار کیا ہے، اس کا راستہ انہی ممالک سے ہو کر گزرتا ہے جو امریکی اثر و رسوخ کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب، ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی ملک کی موجودہ صورتحال اور بین الاقوامی دباؤ کے حوالے سے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔
یہ بیان انہوں نے ایران کے سابق صدر ابراہیم رئیسی کی دوسری برسی کے موقع پر جاری کردہ اپنے ایک تحریری پیغام میں دیا۔
سابق صدر ابراہیم رئیسی دو سال قبل ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے، جن کی یاد میں ملک بھر میں تقاریب کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اپنے خصوصی پیغام میں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران اس وقت دو عالمی دہشت گرد افواج کے خلاف ایک تاریخی اور منفرد مزاحمت کر رہا ہے۔
انہوں نے ملک کو درپیش حالیہ جنگی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس جاری جنگ نے ایرانی حکام پر پہلے سے کہیں زیادہ بوجھ اور ذمہ داریاں ڈال دی ہیں۔
ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ ملک کو بیرونی جارحیت کا سامنا ہے لیکن وہ اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کی طرف سے خطے کے ممالک کو دی جانے والی یہ وارننگ اور سپریم لیڈر کا تازہ بیان اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں ایران اپنے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ی ترجمان ابراہیم رضائی کی خطے کو فائنل وارننگ