ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے بحری ناکا بندی کا مقصد ایران میں اندرونی اختلاف پیدا کرنا اور ملک کو اندر سے کمزور کرنا ہے، جب کہ اسی دوران ایرانی وزیرِ تیل نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ناکا بندی کے باوجود تیل کی سپلائی مستحکم ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر کو جواب دیا ہے کہ اس کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر نافذ بحری ناکا بندی کا مقصد ملک کے اندر تقسیم پیدا کرنا ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو دباؤ میں لانے کے لیے معاشی پابندیوں اور اندرونی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ملک کو اندرونی طور پر کمزور کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو سخت گیر اور اعتدال پسند گروہوں میں تقسیم کر کے سیاسی اور سماجی تقسیم پیدا کرنا چاہتا ہے، جب کہ اس کے ساتھ ساتھ معاشی دباؤ بھی بڑھایا جا رہا ہے۔
قالیباف کے مطابق دشمن ایک نئی حکمت عملی کے تحت بحری ناکا بندی اور میڈیا مہم کے ذریعے ایران کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس صورتِ حال میں قومی اتحاد ہی واحد حل ہے۔
دوسری جانب ایران کے وزیرِ تیل محسن پاک نژاد نے کہا ہے کہ امریکی ناکا بندی کے باوجود ملک میں تیل کی فراہمی اور تقسیم کا نظام مکمل طور پر مستحکم ہے۔ ’الجزیرہ‘ کے مطابق انہوں نے کہا کہ تیل کی صنعت سے وابستہ کارکن دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
خیال رہے کہ امریکا نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز پر بحری ناکا بندی نافذ کر رکھی ہے، جس کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل کی ترسیل کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بل کہ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثرات ڈالے ہیں۔ ایران اندرونی استحکام اور توانائی سپلائی کو برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے جب کہ امریکا دباؤ کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزوس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی ناکا بندی ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ پہلے ایران کو جوہری معاہدے پر آمادہ ہونا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینیٹ کام) نے ایران پر”مختصر اور طاقتور“ فضائی حملوں کا ایک منصوبہ بھی تیار کیا ہے، جس کا مقصد مذاکرات میں تعطل توڑنا بتایا جا رہا ہے۔ ان ممکنہ حملوں میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔