پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی گزشتہ دو برسوں کے دوران مسلسل تنزلی کا شکار رہی ہے، جہاں قومی ٹیم کو عالمی ایونٹس، دوطرفہ سیریز اور نسبتاً کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں کے خلاف متعدد شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جنہیں ماضی میں کمزور حریف تصور کیا جاتا تھا جب کہ ناقص نتائج کے بعد ٹیم مینجمنٹ اور پاکستان کرکٹ کے مجموعی ڈھانچے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم گزشتہ 2 برس کے دوران بدترین کارکردگی، غیر متوقع شکستوں اور عالمی ایونٹس میں ناکامیوں کے باعث شدید تنقید کی زد میں رہی ہے۔
قومی ٹیم کو اس عرصے میں کئی ایسی ٹیموں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جنہیں ماضی میں نسبتاً کمزور تصور کیا جاتا تھا۔ ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کو آئرلینڈ اور امریکا جیسی ٹیموں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے کے لیے بھی کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی۔
ٹیسٹ کرکٹ میں بھی پاکستان کی صورت حال مزید مایوس کن رہی، جہاں قومی ٹیم کو اپنی ہی سرزمین پر بنگلہ دیش کے خلاف 2-0 سے سیریز میں شکست ہوئی۔ اسی دوران انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 556 رنز بنانے کے باوجود اننگز سے شکست کا سامنا کیا۔
ون ڈے اور ٹی 20 فارمیٹس میں بھی قومی ٹیم کو زمبابوے کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو شائقینِ کرکٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔
چیمپئنز ٹرافی میں بھی قومی ٹیم کوئی میچ جیتنے میں ناکام رہی اور خراب کارکردگی کے بعد ایونٹ میں آگے نہ بڑھ سکی۔ اسی دوران ٹیم کو ٹی 20 تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
پاکستانی بولنگ شعبے کی خراب کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ٹی 20 میچ کے ابتدائی 6 اوورز میں قومی ٹیم نے 92 رنز دے ڈالے۔
اسی عرصے میں کمزور سمجھی جانے والی نیوزی لینڈ ٹیم کے خلاف ٹی 20 سیریز میں پاکستان 8 میں سے 7 میچز ہار گیا جب کہ بنگلہ دیش کے خلاف ایک ٹی 20 میں پوری ٹیم محض 110 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان 2026 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے لیے بھی کوالیفائی نہ کر سکا جب کہ مسلسل شکستوں کے سلسلے نے ٹیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ کو انتظامی، تکنیکی اور منصوبہ بندی کی سطح پر وسیع اصلاحات کی ضرورت ہے، بصورت دیگر بین الاقوامی سطح پر ٹیم کی کارکردگی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔