روس میں کالج کے ایک طالب علم کو پیزا کی دکان پر ہیرو بننے کا شوق اس وقت مہنگا پڑ گیا، جب اس نے پیزا آرڈر کرتے وقت دکاندار کو اپنا نام ’ایڈولف ہٹلر‘ لکھوا دیا۔ پیزا تو خیر اس کے ہاتھ نہ آیا، لیکن پولیس نے اس انوکھے ہٹلر کو نازیوں کی نشانیاں اور نام پھیلانے کے جرم میں دھر لیا اور عدالت نے اسے پانچ دن کے لیے جیل کی ہوا کھانے بھیج دیا۔ اب اس منچلے کو نہ صرف جیل کی روٹی کھانی پڑ رہی ہے بلکہ کالج سے نکالے جانے کا جھٹکا بھی الگ لگنے والا ہے۔
یہ واقعہ روس کے شہر نزنی ٹیگل میں پیش آیا، جہاں تیموفے واخونن نامی 18 سالہ طالب علم نے ایک مقامی شاپنگ سینٹر میں موجود ریسٹورنٹ سے پیزا آرڈر کرتے وقت اپنا نام ”ایڈولف ہٹلر“ بتایا۔
وہاں موجود ایک سیاسی رہنما الیکسی سوایلوف نے اس بات کو نوٹ کیا اور فوراً پولیس کو شکایت کر دی۔ الیکسی سوایلوف نے واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سب کچھ میرے ایک دوست کے سامنے ہوا جو فوج کا پرانا سپاہی ہے اور جنگ لڑ چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرا ماننا ہے کہ یہ قانون توڑنے کا بالکل صاف اور واضح معاملہ ہے۔
علاقائی وزارت داخلہ کے مطابق پولیس نے نوجوان کو اس کے کالج سے گرفتار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور اپنے کیے پر فوری طور پر افسوس کا اظہار کیا۔
وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا، ”اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس نے ان تمام لوگوں سے معذرت کی جن کے جذبات اس کے رویے سے مجروح ہوئے۔“
تحقیقات کے دوران حکام کو مزید معلومات بھی ملیں۔ تفتیشی اداروں کے مطابق نوجوان نے اپنی میز پر بعض ممنوعہ علامات بنا رکھی تھیں۔ بعد میں اس نے ان علامات کی تصاویر کھینچ کر ایک آن لائن چیٹ فورم میں بھی شیئر کیں۔
روسی اخبار نووایا گازیتا یورپ کے مطابق انتہا پسندی کے خلاف کام کرنے والے خصوصی افسران بھی اس تحقیقات میں شامل تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آن لائن سرگرمیوں کی جانچ کے دوران نوجوان کے خلاف مزید شواہد سامنے آئے۔
دوسری جانب تیموفے واخونن نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا کہ اسے اپنے عمل کے نتائج اور اس کی اہمیت کا مکمل اندازہ نہیں تھا۔
اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کیے کے اصل معنی اور اثرات کو نہیں سمجھ سکا تھا۔ لیکن پولیس نے اس کا یہ سستا بہانہ نہیں مانا اور پیزا کی جگہ پانچ دن کے لیے حوالات کی سیر پر روانہ کر دیا۔