ایک انتہائی قدیم مہر اس وقت تاریخ دانوں اور ماہرین کے درمیان بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے کہ مہر پر موجود تصویر شیوا کی نہیں ہے۔ یہ مہر تقریباً تینتالیس سو سال پرانی ہے اور اسے موہنجوداڑو سے دریافت کیا گیا تھا۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب ہندوستان کی وزارتِ ثقافت نے انٹرنیٹ پر اس مہر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے بھارت کی قدیم اور مسلسل تہذیب کی علامت قرار دیا اور مہر پر موجود شکل کو شیوا پشوپتی یعنی ہندو دیوتا شیو کی ابتدائی شکل قرار دیا۔
اس دعوے کے سامنے آتے ہی امریکا کی ایک معروف خاتون تاریخ دان آڈری ٹروشکے نے اس پر اعتراض اٹھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصویر شیو کی نہیں ہے بلکہ یہ پرانے زمانے کے ایران کی ایک قدیم تہذیب کے فن اور علامات سے ملتی جلتی ہے۔
ان کے مطابق یہ تصویر پورے یورپ اور ایشیا کے خطے میں مانے جانے والے کسی ایسے قدیم دیوتا کی ہو سکتی ہے جسے جانوروں کا مالک سمجھا جاتا تھا۔ ان کے اس بیان نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے اور لوگ اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ برصغیر کی قدیم تاریخ کو کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔
ہندوستان کے بہت سے ادیبوں اور تاریخ دانوں نے آڈری ٹروشکے کے اس خیال کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مقامی تاریخ کو نظر انداز کر رہی ہیں۔
مثال کے طور پر مشہور مصنف امیش تریپاٹھی کا کہنا ہے کہ اس مہر پر ہاتھی، بھینس اور گینڈے جیسے جانور بنے ہوئے ہیں جو کہ ہندوستان ہی میں پائے جاتے ہیں، جبکہ ایران کے ان علاقوں میں یہ جانور نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مہر پر موجود شکل یوگا کے انداز میں بیٹھی ہے، تو کیا یوگا بھی ایران سے آیا تھا؟ اسی طرح ایک اور پروفیسر لاونیا ویمسانی نے کہا کہ ایرانی تہذیب کی مہریں اس مہر سے بالکل مختلف ہیں اور ان میں ایک فیصد بھی مماثلت نہیں ہے۔
دوسری طرف کچھ ایسے تاریخ دان بھی ہیں جو آڈری ٹروشکے کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مہر کو شیو سے جوڑنے کا نظریہ بہت پرانا ہو چکا ہے اور اس کے حق میں کوئی پختہ ثبوت نہیں ہیں۔
ان ماہرین کے مطابق 1920 کی دہائی میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ جان مارشل نے پہلی بار اسے شیو کی ابتدائی شکل کہا تھا، لیکن وہ کوئی باقاعدہ تربیت یافتہ ماہر نہیں تھے اور انہوں نے صرف اندازے سے یہ بات کہی تھی۔ ان تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ مہر پر موجود شکل کے سر پر جو چیز ہے وہ شیو کا تریشول نہیں بلکہ بھینس کے سینگ ہیں، اور یہ تصویر کسی مقامی جادوگر یا کسی اور قدیم عقیدے کی ہو سکتی ہے۔
اس مہر کے بارے میں مشہور مصنف دیودت پٹنائک کا ایک الگ ہی نظریہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب زیادہ تر ماہرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس کا شیو سے کوئی تعلق نہیں ہے، حالانکہ عام کتابوں میں اب بھی یہی لکھا جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس مہر کے دو ورژن ہیں، ایک دلی میں ہے اور دوسرا اسلام آباد میں۔
ان کے مطابق مہر پر موجود شکل کے سینگ بنے ہوئے ہیں جو عام طور پر شیو کی تصویروں میں نہیں ہوتے۔ البتہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس شکل کے بیٹھنے کا انداز بالکل یوگا کے ایک خاص آسن جیسا ہی ہے۔ لندن کی یونیورسٹی سے وابستہ ایک نارویجن محقق الیگزینڈر اینجسکاگ نے بھی اپنی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مہر کا شیو، یوگا یا ہندو مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ بحث اب صرف پرانی تاریخ اور آثارِ قدیمہ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سیاسی رنگ بھی اختیار کر چکی ہے۔ وزارتِ ثقافت اور ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ مہر اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ ہندو روایات اور یوگا کا سلسلہ ہزاروں سال پرانی وادیٔ سندھ کی تہذیب سے جڑا ہوا ہے۔ جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ وادیٔ سندھ کی لکھائی کو آج تک کوئی پڑھ نہیں سکا ہے، اس لیے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے بعد کے دور کے مذہبی عقائد کو اتنی پرانی تہذیب پر زبردستی تھوپنا درست نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دریافت کے سو سال بعد بھی موہنجوداڑو کی یہ مہر ایک ایسا معمہ بنی ہوئی ہے جس کی حقیقت اب بھی الگ الگ نظریات کے پردوں میں چھپی ہے۔