یکم مئی کو دنیا بھر میں محنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے یومِ مزدور منایا جاتا ہے۔ اس دن دفاتر اور سرکاری اداروں میں عام تعطیل ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف دیہاڑی دار مزدورکام کرتے نظر آتے ہیں۔ ہر سال یومِ مزدور پر یہ سوال سر اٹھاتا ہے کہ ایک طبقہ چھٹی پر اور ایک طبقہ کام پر کیوں ہے؟ اس کا جواب مزدور کی عالمی تعریف میں پوشیدہ ہے۔
عالمی ادارہ محنت (انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن) کے مطابق ہر وہ شخص جو جسمانی یا ذہنی محنت کے بدلے اُجرت حاصل کرتا ہے، مزدور یا ورکر کہلاتا ہے۔ اس تعریف میں دفاتر میں کام کرنے والے سفید پوش ملازمین بھی شامل ہیں۔
دفاتر اور کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والے ملازمین قانونی معاہدوں اور لیبر قوانین کے تحت آتے ہیں، جہاں سرکاری تعطیلات پر انہیں تنخواہ کے ساتھ چھٹی ملتی ہے۔
اس کے برعکس دیہاڑی دار مزدور، ریڑھی بان اور تعمیراتی ورکرز اکثر کسی باقاعدہ ادارے یا معاہدے کے تحت نہیں ہوتے۔ ان کی آمدن کا انحصار روزانہ کی محنت پر ہوتا ہے، اسی لیے ان کے لیے چھٹی کا مطلب آمدن سے ہاتھ دھو بیٹھنا ہے۔ بامعاوضہ چھٹی کی عدم دستیابی انہیں آرام کے بجائے کام پر مجبور رکھتی ہے۔
یومِ مزدور کی تاریخی بنیاد 1886 میں امریکا کے شہر شکاگو کے ہیمارکیٹ واقعے سے جڑی ہے، جہاں مزدوروں نے روزانہ 8 گھنٹے کام کے حق کے لیے تحریک چلائی۔ اس وقت ان کا بنیادی مطالبہ تھا، آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے آرام اور آٹھ گھنٹے ذاتی زندگی کے لیے۔ اس جدوجہد میں کئی جانیں ضائع ہوئیں، مگر اسی تحریک نے عالمی سطح پر مزدور حقوق کی بنیاد رکھی۔
آج کے دور میں بھی محنت کش طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور کم اجرت نے عام مزدور کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ نجی شعبے میں کام کرنے والے لاکھوں افراد اب بھی بنیادی سہولیات، صحت کی سہولتوں اور سوشل سکیورٹی سے محروم ہیں۔
اسی تناظر میں معروف مالیاتی تجزیاتی ادارے ”ہیلو سیف“ کی 2026 کی رپورٹ بھی اہم نکتہ اٹھاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کسی ملک کی حقیقی خوشحالی صرف معاشی حجم سے نہیں بلکہ اس بات سے ماپی جاتی ہے کہ دولت معاشرے کے تمام طبقات تک کس حد تک پہنچتی ہے۔
اس رپورٹ میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر 50 سے زائد ممالک کا جائزہ لیا گیا، جس میں آمدن، معاشی عدم مساوات اور معیارِ زندگی جیسے عوامل کو شامل کیا گیا۔
یہ رپورٹ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حقیقی ترقی وہی ہے جس میں دولت چند ہاتھوں تک محدود نہ رہے بلکہ عام شہری کی زندگی میں بہتری لائے۔
یومِ مزدور کے موقع پر یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ کیا یہ دن صرف رسمی تقاریب اور تعطیل تک محدود ہے یا اس کے تقاضے عملی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اصل خراجِ تحسین محنت کشوں کو باعزت روزگار، مناسب اجرت اور سماجی تحفظ فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
مجموعی طور پر یومِ مزدور ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ معاشرے کی اصل ترقی اسی وقت ممکن ہے جب محنت کش طبقے کو ان کے جائز حقوق، تحفظ اور عزتِ نفس فراہم کی جائے، کیونکہ انہی کے ہاتھ کسی بھی معاشرے کی بنیاد اور مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں۔