ایران نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم کسی بھی بیرونی ڈیڈ لائن یا وقت کے دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا اور حتمی فیصلہ ملکی مفاد کے مطابق مناسب وقت پر کیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران امریکی تجاویز پر غور جاری رکھے ہوئے ہے اور جب کوئی حتمی نتیجہ سامنے آئے گا تو اس کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی پالیسی کے مطابق آزادانہ طور پر فیصلے کرتا ہے اور کسی بیرونی دباؤ یا مقررہ وقت کی پابندی کو اہمیت نہیں دیتا۔ ترجمان کے مطابق ہم اپنا کام کر رہے ہیں اور کسی ڈیڈ لائن یا ٹائمنگ پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔
اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ جمعرات کی رات ہونے والی کارروائی بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں، اپنی تمام صلاحیتوں کے ساتھ صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیار ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ بندی کے حوالے سے ہماری تجاویز پر ایران کی جانب سے جواب جلد ملنے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے دھمکی بھی دی کہ معاملات آگے نہ بڑھے تو دوبارہ پروجیکٹ فریڈم کی طرف جا سکتے ہیں، پروجیکٹ فریڈم کے قلیل مدتی آپریشن کو دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ پروجیکٹ فریڈم اچھا ہے، لیکن اسے کرنے کے دوسرے طریقے بھی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ’پروجیکٹ فریڈم پلس‘ ہوگا، ساتھ میں کچھ دوسری چیزیں بھی شامل ہوں گی۔
جمعے کے روز امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی تجاویز پر ایران کے جواب کا انتظار ہے، تہران کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ روم میں صحافیوں سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ واشنگٹن ایران کی جانب سے سنجیدہ تجاویز کا منتظر ہے اور امید کرتا ہے کہ ایران موجودہ صورتِ حال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا۔
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کا داخلی نظام اس وقت شدید تقسیم اور غیر مؤثر صورتِ حال کا شکار ہے، جس کی وجہ سے فیصلہ سازی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق امید کی جا رہی ہے کہ ایران کی جانب سے ایسا مؤقف سامنے آئے جو سنجیدہ مذاکرات کے آغاز کا باعث بنے۔
تاہم روبیو نے خبردار بھی کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت اور انسانی جانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔ انھوں نے دعوٰی کیا کہ جمعرات کو امریکی جنگی جہاز بین الاقوامی پانیوں سے گزر رہے تھے کہ اس دوران ایران کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں امریکا نے اپنے دفاع میں کارروائی کی۔ اسی حوالے سے ایرانی وزیرِ خارجہ نے امریکی بیان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کی رات ہونے والی کارروائی بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق کچھ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے کوئی نیا ادارہ قائم کرنے یا اس کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ ان کے بقول ناقابلِ قبول اور سنگین مسئلہ ہوگا۔ انھوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ موجودہ صورتِ حال ایک ایسے سفارتی عمل میں تبدیل ہو جس کے ذریعے کشیدگی کم ہو اور بامعنی مذاکرات شروع کیے جا سکیں۔
دوسری جانب ہفتے کے روز امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے، آبنائے ہرمز کشیدگی، بحری راستوں کی سیکیورٹی مذاکرات کا اہم ایجنڈا ہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک ثالثوں کے ذریعے ایک ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار کر رہے ہیں، جس کے تحت ابتدائی طور پر ایک ماہ پر محیط مذاکراتی عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتِ حال کا خاتمہ بتایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، جس کے جواب میں تہران نے جوابی کارروائیاں کیں جب کہ آبنائے ہرمز میں عالمی تیل و گیس کی ترسیل بھی متاثر ہوئی۔
بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی عمل میں آئی تھی، تاہم 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کسی مستقل معاہدے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی تھی۔ تاہم 13 اپریل سے امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے بحری ناکا بندی بھی نافذ کررکھی ہے۔